*🌼دفن کے بعد قبر پر پانی ڈالنا سنت ہے🌼.*
جیسا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دفن کرنے کے بعد ان کی قبر پر پانی چھڑکا اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وصال پر آپ کی قبر انور شریف پر بھی پانی چھڑکایا گیا..
اور ابن ماجہ میں.
*حضرت ابو رافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت سعد کو قبر پر سر کی جانب سے لٹایا اور ان کی قبر پر پانی چھڑکا.*
ابن ماجہ,
کتاب الجنائز,
حدیث ۱۶۱۸
ص۲۲۵📚📚📚
*دوسری حدیث :*
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔ کہ رسول کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی قبر شریف پر پانی چھڑکایا گیا اور پانی کی چھڑکنے کی خدمت حضرت بن رباح رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مشکیزہ سے اس طرح انجام دی کہ سرہانے کی جانب سے پانی چھڑکنا شروع کیا یہاں تک قدموں تک آکر ختم کیا
بیہقی فی دلائل النبوۃ
مشکوۃ المصابیح
باب البکاء علی المیت
الفصل الثانی
صفحہ ۱۶۹📚📚📚
*🌼قبر پر پانی چھڑکنے کی حکمت🌼*
قبر پر پانی چھڑکنے میں کیا حکمت ہے,
اس سلسلہ میں ملا علی قاری علیہ الرحمہ اپنی مشہور و معروف کتاب
,مرقاۃ شرح مشکوۃ, میں ارشاد فرماتے ہیں
*قال الطیبی لعل ذالک اشارۃ الیٰ استنزال الرحمتہ الالٰھیّت والعواطف الربانیت*.
یعنی حضرت طیبی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ پانی چھڑکنے میں یہ حکمت ہے کہ اس فعل میں اللہ تعالیٰ کی رحمت اور رب کریم کی مہربانیوں کے نازل ہونے کی طرف اشارہ ہے ...
ایک حکمت یہ بھی ہے کہ قبر پر تشریف لے جاکر حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے جو مختلف دعائیں اپنے رب سے مانگی ہے ان مقدس دعاوں میں سے ایک دعا یہ بھی ہے..
اللھم اغسل خطایاۃ بالماء والثلج والبرد.
یعنی اے اللہ اسکے گناہ کو پانی اور برف اور اولے(ژادے)سے دھودے..
اسی طرح بزرگان دین اور عظیم الشان علماء ملت اسلامیہ یہ دعا کرتے چلے آئے ہیں. کہ اللہ تعالیٰ اسکی قبر کو سیراب کرے اور اسکی لیٹنے کی جگہ (قبر) کو ٹھنڈا کرے...
بعض حضرات نے پانی چھڑکنے کی یہ وجہ بھی بیان فرمائ ہے....
کہ پانی قبر پر اسلیئے چھڑکایا جاتا ہے کہ قبر زیادہ دیر تک قائم رہتی ہے.
مٹی جم جاتی ہے اور قبر پختہ ہوجاتی ہے اور قبر کی نشاند جلدی مٹتا نہیں......
*مسئلہ:----*
*دفن کے بعد قبر پانی چھڑکنا مسنون ہے.*
*اگر عرصہ طویل گزنے کی وجہ سے قبر کی مٹی منتشر یعنی ادھر اُدھر ہوگئ ہے اور قبر پر از سر نو مٹی ڈالی گئ ہے. یا قبر کی منتشر ہوجانے کی احتمال ہے. تو اب بھی قبر پر پانی ڈال سکتے ہیں.. تاکہ قبر کا نشان باقی رہے اور قبر کی توہین نہ ہونے پائے.*
*کتاب درمختار میں بھی یہی علت بیان فرمائ گئ ہے کہ نشان مٹ جانے کی سبب بے حرمتی نہ ہو .*
*اور اس کیلئے کوئی دن معین نہیں ہو سکتا..*
*جب حاجت ہو تب پانی ڈالے اور بے حاجت پانی ڈالنا پانی کو ضائع کرنا ہے. اور پانی ضائع کرنا جائز نہیں. اور عاشورہ کے دن قبر پر پانی ڈالنے کی تخصیص بلکل بے اور بے معنیٰ ہے...*
*حوالہ....*
*فتاویٰ رضویہ شریف*
*مترجم*
*جلد نمبر۹*
*صفحہ نمبر ۳۷۳*
---------------------------------
*خدا توفیق دے مجھ کو بس یہ کام کرنا ہے*
*زمانے بھر میں پیغام رضا کو عام کرنا ہے*
جیسا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دفن کرنے کے بعد ان کی قبر پر پانی چھڑکا اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وصال پر آپ کی قبر انور شریف پر بھی پانی چھڑکایا گیا..
اور ابن ماجہ میں.
*حضرت ابو رافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت سعد کو قبر پر سر کی جانب سے لٹایا اور ان کی قبر پر پانی چھڑکا.*
ابن ماجہ,
کتاب الجنائز,
حدیث ۱۶۱۸
ص۲۲۵📚📚📚
*دوسری حدیث :*
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔ کہ رسول کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی قبر شریف پر پانی چھڑکایا گیا اور پانی کی چھڑکنے کی خدمت حضرت بن رباح رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مشکیزہ سے اس طرح انجام دی کہ سرہانے کی جانب سے پانی چھڑکنا شروع کیا یہاں تک قدموں تک آکر ختم کیا
بیہقی فی دلائل النبوۃ
مشکوۃ المصابیح
باب البکاء علی المیت
الفصل الثانی
صفحہ ۱۶۹📚📚📚
*🌼قبر پر پانی چھڑکنے کی حکمت🌼*
قبر پر پانی چھڑکنے میں کیا حکمت ہے,
اس سلسلہ میں ملا علی قاری علیہ الرحمہ اپنی مشہور و معروف کتاب
,مرقاۃ شرح مشکوۃ, میں ارشاد فرماتے ہیں
*قال الطیبی لعل ذالک اشارۃ الیٰ استنزال الرحمتہ الالٰھیّت والعواطف الربانیت*.
یعنی حضرت طیبی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ پانی چھڑکنے میں یہ حکمت ہے کہ اس فعل میں اللہ تعالیٰ کی رحمت اور رب کریم کی مہربانیوں کے نازل ہونے کی طرف اشارہ ہے ...
ایک حکمت یہ بھی ہے کہ قبر پر تشریف لے جاکر حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے جو مختلف دعائیں اپنے رب سے مانگی ہے ان مقدس دعاوں میں سے ایک دعا یہ بھی ہے..
اللھم اغسل خطایاۃ بالماء والثلج والبرد.
یعنی اے اللہ اسکے گناہ کو پانی اور برف اور اولے(ژادے)سے دھودے..
اسی طرح بزرگان دین اور عظیم الشان علماء ملت اسلامیہ یہ دعا کرتے چلے آئے ہیں. کہ اللہ تعالیٰ اسکی قبر کو سیراب کرے اور اسکی لیٹنے کی جگہ (قبر) کو ٹھنڈا کرے...
بعض حضرات نے پانی چھڑکنے کی یہ وجہ بھی بیان فرمائ ہے....
کہ پانی قبر پر اسلیئے چھڑکایا جاتا ہے کہ قبر زیادہ دیر تک قائم رہتی ہے.
مٹی جم جاتی ہے اور قبر پختہ ہوجاتی ہے اور قبر کی نشاند جلدی مٹتا نہیں......
*مسئلہ:----*
*دفن کے بعد قبر پانی چھڑکنا مسنون ہے.*
*اگر عرصہ طویل گزنے کی وجہ سے قبر کی مٹی منتشر یعنی ادھر اُدھر ہوگئ ہے اور قبر پر از سر نو مٹی ڈالی گئ ہے. یا قبر کی منتشر ہوجانے کی احتمال ہے. تو اب بھی قبر پر پانی ڈال سکتے ہیں.. تاکہ قبر کا نشان باقی رہے اور قبر کی توہین نہ ہونے پائے.*
*کتاب درمختار میں بھی یہی علت بیان فرمائ گئ ہے کہ نشان مٹ جانے کی سبب بے حرمتی نہ ہو .*
*اور اس کیلئے کوئی دن معین نہیں ہو سکتا..*
*جب حاجت ہو تب پانی ڈالے اور بے حاجت پانی ڈالنا پانی کو ضائع کرنا ہے. اور پانی ضائع کرنا جائز نہیں. اور عاشورہ کے دن قبر پر پانی ڈالنے کی تخصیص بلکل بے اور بے معنیٰ ہے...*
*حوالہ....*
*فتاویٰ رضویہ شریف*
*مترجم*
*جلد نمبر۹*
*صفحہ نمبر ۳۷۳*
---------------------------------
*خدا توفیق دے مجھ کو بس یہ کام کرنا ہے*
*زمانے بھر میں پیغام رضا کو عام کرنا ہے*
No comments:
Post a Comment